Showing posts with label urdustories. Show all posts
Showing posts with label urdustories. Show all posts

Sunday, 24 March 2019

تحریک پاکستان کےمسیحی ہیرو

دیوان بہادر ایس پی سنگھا ۔ 1893 -1948 ۔ آج میں تحریک پاکستان کے ایک عظیم سپاھی اور قائد اعظم محمد علی جناح کے معتمد ساتھی کا تعارف کروانے جا رہا ھوں ۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہماری نوجوان نسل کو ان کے شاندار ماضی اور تاریخ سے وہ آگاہی باوجوہ حاصل نہیں رہی جو ہونی چاہیے تھی ۔ ماضی سے ناواقفیت حال کے درست راستےاور منزل سے بھٹک جانے کا سبب بنتی ہے ۔

دیوان بہادر ایس پی سنگھا کا تعلق سیالکوٹ پسرور سے تھا ۔ وہ مسیحی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے. پنجاب یونیورسٹی جیسے پنجاب کے مایہ ناز تعلیمی ادارے میں رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے ۔ 1945میں وہ متحدہ پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ۔ بعد میں یونینسٹ پارٹی کے تعاون سے پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ھوئے ۔ جب پنجاب کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو وہ اسمبلی کے سپیکر تھے ۔ مسلم لیگ کے ووٹ 88 تھے اور متحدہ ہندوستان کے حق میں سیاسی قوتوں کے ووٹ بھی 88 تھے ۔ اس صورت حال میں 3 مسیحی ممبران اسمبلی کا ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئے ۔ دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے قائد اعظم محمد علی جناح سے مل کر انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ بالآخر 23جون 1947 کو وہ فیصلہ کن مرحلہ آ پہنچا ۔اسمبلی میں اس بنیاد پر ووٹ ڈالے گئے کہ مغربی پنجاب کو پاکستان میں شامل ھونا چاہیے یا ہندوستان میں؟ جب ووٹ کاسٹ کرنے کا وقت آیا تو تینوں مسیحی ممبران اسمبلی ، سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا ، فضل الہی اور گبن صاحب پاکستان کے حق میں کھڑے ھوے ،نتیجہ 88 ووٹ ہندوستان کے حق میں اور 91 ووٹ پاکستان کے حق میں پڑے ۔ بعد میں دیوان بہادر ایس پی سنگھا کے اس احسان کا بدلہ یوں اتارا گیا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پیش ہوئی کہ سپیکر ایک غیر مسلم نہیں ھونا چاہیے ۔ اس طرح قیام پاکستان کی ابتدا میں ہی قیام پاکستان کے مقاصد کے ساتھ کھلواڑ کا سلسلہ شروع ہوا ۔ مزہبی انتہا پسندی و نفرت کے وہ بیج بوئے گیے جس پر آنے والی غیر جمہوری حکومتوں نے آبیاری کی اور ہم آج کی نسل اس خاردار فصل کو اپنے برہنہ ہاتھوں سے کاٹ رہے ہیں ۔

مجھے بھرپور امید ہے کہ آج کے پاکستان کی آبلہ پا نوجوان نسل قیام پاکستان کے اصل مقاصد سے آگاہ ہو کر اپنے ملک کو قائد اعظم کی امیدوں امنگوں اور خوابوں کے مطابق بنانے میں اپنا کردار ضرور ادا کرے گی ۔ مسلم اور غیر مسلم فرزندان پاکستان ایک دن اپنی منزل حاصل کر کے رہیں گے ۔
پاکستان زندہ باد

The post تحریک پاکستان کےمسیحی ہیرو appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan https://ift.tt/2TYYkLp
Share:

Saturday, 19 January 2019

ادویات کی کمی اور عوام میں پریشانی کی لہر

ہسپتالوں کی ادویات کے بجٹ میں 30%کمی اور حالیہ ریٹ ادویات کے ریٹ میں اضافے کی وجہ سے علاج کی سہولت عوام کی پہنچ سے دورہوگیا۔ ہسپتالوں میں میڈیسن نایاب ہونے پر عوام سرکاری ہسپتالوں میں رل رہی ہے غریب مریضوں کو ادویات حاصل کرنا انتہائی مشکل اور ناممکن ہوگیا ہے بڑے ہسپتالوں رش سنبھالنے کے قابل ہی نہ ہیںعملے اور عوام کے درمیان لڑائی جھگڑے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔65سالہ خدیجہ بی بی کا کہنا ہے کہ میں بزرگ خاتون ہوں روزانہ کی بنیاد پر کھانسی اور دیگر ادویات پر میرا 300روپے کا خرچ ہوجاتا ہے جبکہ پہلے یہ ادویات مجھے ہسپتال سے ہی مل جایا کرتی تھیں۔ پنشنر ہوتے ہوئے مجھ سے اتنے اخراجات برداشت کرنا بس سے باہر ہے ۔ زبیدہ خاتون جو کہ اپنی بیٹی کی زچہ وچہ سے ڈاکٹر کو دیکھانے آئی ہوئی تھی ۔ ڈاکٹر مریضوں کو ہاتھ لگانے کو تیار ہی نہیں تین گھنٹے سے انتظار کررہے تھے ۔ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد ملتان نشتر ہسپتال ریفر کردیا ہے ۔رانا جاوید ایم ایس سول ہسپتال شجاع آباد کے مطابق میڈیسن کی قلت پیدا ہوگئی ہے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے مخیر حضرات سے رابطہ کیا جارہا ہے اسی وجہ سے لائف سیونگ میڈیسن موجود نہیں ہے ۔ سماجی رہنما رضا المنعم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے کھوکھلے دعوﺅں کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ عوام کے ساتھ یہ انتہائی ناانصافی ہے کہ سالانہ میڈیسن بجٹ میں سے 30%کو کٹ لگادیا ہے جس بناءپر ادویات کی قلت سامنے آرہی ہے اور یہ ایک انتہائی تشوشناک حالت ہے ۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے میاں طارق عبد اللہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں نے ادویات کی کوئی کٹوتی نہیں کی ہے یہ محض افواہوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے ابھی تک سابقہ بجٹس کے مطابق ہی میڈیسن سالانہ پرچیزنگ کے ذریعے ہسپتالوں میں پہنچا دی گئی تھی ۔ نیا بجٹ ماہ جون میں اناﺅنس کیا جائے گا جس کے بعد پرچیزنگ ہوگی ۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے زیادہ آمد کی وجہ سے میڈیسن کی کمی ہے اس کے لیے بھی اضافی بجٹ کا انتظام کردیا ہے ۔ انتظامیہ جلدادویات خرید ہسپتالوں میں فراہم کرے گی ۔

The post ادویات کی کمی اور عوام میں پریشانی کی لہر appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan http://bit.ly/2CvOoOE
Share:

پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے

5.3بلین پنجاب میں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے مایوس گھوم رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے گزشتہ کچھ ماہ سے محکمہ تعلیم میں خالی آسامیوں پر بھرتی کے لیے کئی بارکینسل کردی گئیں۔ جس کی وجہ سے نوجوانوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اور ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ جو مختلف محکموں میں ڈیلی ویجز پر کام کررہے تھے ان کو بھی کام سے نکال دیا گیا ہے ۔ اسی حوالے سےبات کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں ملتی ہیں جو کہ بے روزگار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ شدید پریشان ہیں کہ ہمارے والدین نے ہم پر لاکھوں روپے خرچ کرکے ہمیں تعلیم یافتہ بنایا لیکن ہمیں روزگار میسر نہیں ہے جبکہ حکومت کو نوکریاں دینا فرض ہے ۔ شازیہ الطاف کا کہنا ہے کہ میں نے ایم اے انگلش کی تعلیم حاصل کی ہے لیکن پرائیوٹ سکول میں ہمیں زیادہ سے زیادہ 6ہزارروپے دیئے جاتے ہیں جو کہ آج کے اس مہنگائی کے رور میں کم ہیں اور میری تعلیم کے ساتھ بھی ممثالت نہیں کرتے ۔ روبینہ اشرف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی گورنمنٹ کھوکھلے وعدوں کے سوا اور کچھ نہیں کررہی ، افراءنوشین کہتی ہیں کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت وقت جلد محکمہ تعلیم کی سیٹوں کا اعلان کرے گی ۔ مسر ت ذوالفقار کا کہنا ہے کہ غربت کے ہاتھوں تنگ کو کیا پتا کہ حکومت کیا کررہی ہے ہمیں تو صرف روزگار فراہم کرے۔ راﺅ آصف، ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ ایم فل کرنے کے بعد بھی بے روزگار ہونے کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ریڑھی یا رکشہ چلا لیتے تو آج گھریلو اخراجات تو برداشت کرسکتے ۔ عبد الرحمن خلجی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنکل تعلیم کو حاصل کرنے والے بے روزگار ہیں۔حکومت کوئی پالیسی واضع کرے جس سے لوگوں میں تعلیم حاصل کرنے کا ذوق بھی بڑھے اور روزگار بھی مہیا ہو۔ غلام مصطفی کا کہنا ہے کہ حکومت انتہائی ناکام ہوچکی ہے ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کے اوپر رحم کرے ۔ علی رضا کا کہنا ہے کہ بورڈ میں پوزیشن لینے والے بھی پریشان ہے سرکاری طور پر عمر کی جو رکھی گئی ہے اسی تناسب سے ملازمت بھی نکالی جائیں نہیں تو عمر پوری ہونے کے بعد ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے ہم کیا کریں گے ، طاہر شفیق کا کہنا ہے کہ ڈگریوں کو ہاتھوں میں لیے جگہ جگہ پھر رہے ہیں کوئی ادارہ جاب دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ شمشیر نذیرکا کہنا ہے کہ شفارش اور رشوت کا بول بالا ہے ۔سی ای او ملتان شمشیر خان کا کہنا ہے کہ ہم نے خالی آسامیوں کو دیکھ کر ان کی تفصیلات بنائی ہوئی ہیں گزشتہ چھ ماہ سے پنجاب گورنمنٹ نے خالی آسامیوں پر بین لگایا ہوا ہے جیسے ہی وہ بین ختم ہوتا ہے خالی سیٹوں پر اشتہار شائع کردیں گے ۔ یہ تمام مراحل جلد مکمل کرلیں ۔ بین ہٹانا ہمارے اختیار سے باہر ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور ایم این اے خان ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ نے تمام حکمت عملی کو واضع کردیا ہے جلد ہی خالی آسامیوں پر تعیناتی کا اعلان کیا جائے گا۔ ابھی تک اعلان نہ کرنے کی وجہ ملک کی مالی مشکلات سے نکالنے کا حل تلاش کرنا تھا۔ اگر ملکی خزانے پر مزید بوجھ بڑھ گیا تو ہمارے لیے اور پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔

The post پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan http://bit.ly/2RCpOWs
Share:

شجاع آباد کی عوام کے پینے کے صاف پانی کے مسائل

ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں سابقہ ادوار میں 50سے زائد فلٹر پلانٹس لگائے گئے ۔ جن میں سے 9 کام کررہے ہیں جو کہ بلدیہ کمیٹی شجاع آباد کے زیر نگرانی ہے ۔ باقی تمام بند ہوچکے ہیں جس کی وجہ صرف اور صرف فنڈ کی فراہمی نہ ہونا اور ان کے عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی میٹر اتر جانا ہے ،عوام نے اپنے لیے لگائے جانے والے فلٹر پلانٹس کی ٹوٹیاں تک چوری کرلیں ہیں ان فلٹر پلانٹس میں سے کچھ فلٹر پلانٹس ایسے بھی ہیں جن میں سے عوام نے ایک دن بھی پانی کا قطرہ نہیں بھر ا لیکن حکومتی کھاتوں میں ان فلٹر پلانٹس کو ورکنگ دیکھایا گیا ۔ واٹر ٹیسٹنگ ایند لیبارٹری سنٹرملتان کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی فلٹر کا پانی پینے کا قابل ہی نہیں ہے ۔

        دلشاد خان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری تحصیل شجاع آباد کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت نے پیسہ کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں کیا تمام فلٹر پلانٹ شجاع آباد میں بیماری پھیلانے کا سبب بن رہے ہیںفلٹر کے تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے لو گ زہر آلود پانی پینے پر مجبور ہیں اور یہی پانی موت اور ہیپاپائٹس کا سبب بن رہا ہے ۔ شیخ عبد الباری کا کہنا ہے کہ شجاع آباد میں 32فلٹر پلانٹس میں سے 20بالکل بند پڑے ہیں باقی تمام کے فلٹر زکئی ماہ سے تبدیل نہ کیا گیا ہے ۔ اکثر ملازمین کو کئی کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی اصل وجہ یہ ہے کہ نہ ہی ڈسٹر کٹ گورنمنٹ اور نہ ہی بلدیہ اس کی ذمہ داری لے رہی ہے ۔ ملازمین تنخواہیں نہ ملنے پر شدید پریشان ہیں۔اس حوالے سے چیئر مین بلدیہ شجاع آباد ڈاکٹر رفیق احمد قریشی سے ملاقات کی گئی تو ان کاکہنا ہے کہ جن فلٹر پلانٹس کو بلدیہ کے ہینڈ اوور کردیا گیا تھا ۔ وہ تمام کے تمام ورکنگ میں ہیں جن فلٹر پلانٹس پر یوزر کمیٹیاں بنائی گئیں تھی ان پلانٹس پر بوجہ عدم ادائیگی بجلی منقطع کی گئی ہے ۔ اب حکومت کی طرف سے نئی پالیسی سامنے آرہی ہے وہ تمام فلٹر پلانٹس جو بلدیہ کی حدود میں آتے ہیں ان تمام کو بلدیہ نے چلانا ہے اس کے لیے نئی حکمت عملی کو جلد عمل پیرا کرتے ہوئے عوام کے لیے فائدہ مند کیا جائےگا۔

 عوامی حلقوں میں یہ رائے عام پائی جاتی ہے کہ سابقہ حکومت نے ووٹر کو اپنی طرف کھینچے کے لیے جلد بازی میں صرف ڈھانچے ہی کھڑے کیئے گئے تھے۔ اور وقتی طور پر ان کو یوزر کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا جو کہ اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان کو اپنی جیبوں سے یا چندہ اکٹھا کرکے مینٹین یا چلایا جائےگا، اسی وجہ سے وہ فلٹر پلانٹس عدم ادائیگیوں اور معمولی سی خرابیوں کی وجہ سے بند پڑے ہوئے ہیں ۔ شجاع آباد ہیپاٹائٹس ایک وبا اختیار کرگیا ہے ۔ تقریباً75فیصد لوگوں کو ہپاپائٹس مرض میںمبتلا ہیں (ہیپاپائٹس کنٹرول پروگرام کے مطابق)،اورہیپاپائٹس آلودہ پانی کی وجہ سے مزیدیہ مرض تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔عوام کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت پاکستان سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ فوری طور پر مسئلہ کو حل کرکے عوام کو تبدیلی کا ثبوت دے ۔ جو کہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا۔

The post شجاع آباد کی عوام کے پینے کے صاف پانی کے مسائل appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan http://bit.ly/2CziYqq
Share:

Tuesday, 15 January 2019

لیہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدواروں کے خلاف درج مقدمات سربمہر کردیئے گئے

لیہ میں انتخابی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے خلاف درج کئے گئے مقدمات سرد جانے کی نظر ہوگئے گزشتہ سال ماہ جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کوان کے مختلف اسمبلیوں کےامیدواروں کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا تھا اور ضلع بھر میں کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزیاں مانیٹر کرنے کے لیے ڈپٹی کمیشنر کے سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جو انتخابات کے سخت قوائد وضوابط پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ دار تھی  قوائد و ضوابط کے مطابق الیکشن مہم کے دوران لاوڈ سپیکر کا استعمال، طے کردہ سائز سے بڑے پینافلیکس، تشہیری بورڈ، پمفلٹ ،سٹیکر اور سیاسی جلسوں لے لیے سرکاری عمارتوں کے استعمال کی سختی سے ممانعت کی گئی تھی ضلع کی سطح پر قائم کمیٹی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ناصرف لگائے گئے تشہیری بورڈ، سائز سے بڑے پینافلیکس، اور جھنڈے اتروا لیتی تھی بلکہ خلاف ورزی کرنے والے مختلف امیدواروں پر مقدمات بھی درج کروائے جاتے تھے اور اسی بنیاد پر ضلع بھر کے مختلف تھانوں میں سیاسی جماعتوں کے امیدوار صوبائی و قومی اسمبلیوں کے خلاف 14 مقدمات درج کروائے گئے تھے جن میں تھانہ سٹی میں مقدمہ نمبر 330/18 آزاد امیدوار صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 284 ملک ہاشم سہو کے خلاف ساونڈ سسٹم آرڈیننس کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا تھا جس میں امیدوار کے علاوہ 24 نامعلوم افراد بھی شامل کیے گئے تھے تھانہ چوک اعظم میں مقدمہ نمبر 364/18 زیر دفعہ 188ppc ڈاکٹر حنیف سپورٹر صوبائی امیدوار پاکستان تحریک انصاف حلقہ پی پی 282 سردار قیصر عباس خان مگسی کے خلاف ر درج کیا گیا جس میں 80 نامعلوم افراد بھی شامل کیے گئے تھے تحصیل کروڑ لعل عیسن کے تھانہ کروڑ لعل عیسن میں مقدمہ نمبر 308/18 دونامعلوم افراد کے خلاف اسلحہ لہرانے کے جرم میں درج کیا گیا تھا اسی طرح تھانہ کروڑ لعل عیسن میں ہی 1 جولائی کو مقدمہ نمبر 309 دو نامعلوم افراد کے خلاف اسلحہ لہرانے کے جرم میں درج کیا گیا۔ تھانہ چوک اعظم میں مقدمہ نمبر 365/18 زیر دفعہ188ppc تین نامزد اور 70 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھانہ کوٹ سلطان میں مقدمہ نمبر 161/18 زیر دفعہ 188ppc پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار قومی اسمبلی ملک رمضان بھلر اور ان کے دوساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا اسی طرح تھانہ کوٹ سلطان میں مقدمہ نمبر 162/18 زیر دفعہ 188ppc مسلم لیگ ن کے امیدوار قومی اسمبلی سید ثقلین شاہ بخاری اور ان کے دوساتھیوں کے خلاف درج کیا گیاتھا ساونڈ سسٹم ایکٹ کے تحت تھانہ کوٹ سلطان میں مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم چلانے پر 3 نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھانہ کروڑ لعل عیسن میں مقدمہ نمبر 311/18 زیر دفعہ 188ppc پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار قومی اسمبلی حاجی عبدالمجید خان نیازی کے خلاف درج کیا گیا تھانہ کروڑ لعل عیسن میں مقدمہ نمبر 313/18 زیر دفعہ 188ppc آزاد امیدوار صوبائی اسمبلی ملک احمد علی اولکھ کے خلاف درج کیا گیا  تھانہ کروڑ لعل عیسن میں مقدمہ نمبر 316/18 زیر دفع 188ppcبھی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار قومی اسمبلی حاجی عبدالمجید خان نیازی کے خلاف درج کیا گیا تھا اسی طرح مقدمہ نمبر 317/18 زیر دفعہ 188ppcبھی  پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی کی مہم چلانے پر 3 افراد کے خلاف درج کیا گیا اور مقدمہ نمبر 329/18 بھی عبدالمجید خان نیازی کی ہی کمپین کرنے والے مہم چلانے پر درج کیا گیا تھانہ سٹی لیہ میں مقدمہ نمبر 373/18 زیر دفعہ 188ppc آزاد امیدوار قومی اسمبلی چوہدری اشفاق احمد کے خلاف درج کیا گیا تھا
ان تمام مقدمات میں نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور نہ ہی ان 14 مقدمات میں نامزد افراد میں سے کسی نے عبوری ضمانت کروائی جبکہ ان مقدمات میں تفتیش بھی شروع نہیں کی جا سکی رابطہ کرنے پر ترجمان لیہ پولیس اسامہ مشتاق نے بتایا کہ حکام بالا کی حکم پر تمام مقدمات کی ایف آئی آرز سربمہر کر دی گئی ہیں
سینئر قانون دان اور پیپلز لائر فورم کے رہنما مرزا عرفان بیگ ایڈووکیٹ نے کہا کہ لیہ میں الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر درج مقدمات کی سزائیں کم از کم 25 ہزرا روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ 7 سال قید ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں انتخابات کی رنگینی جہازی سائز کے تشہیری بورڈ، ڈھول کی تھاب پر سیاسی کارکنوں کے بھنگڑے اور لاوڈ سپیکر پر انتخابی مہم سے عبارت تھی تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے نافذالعمل قوائد و ضوابط کی آڑ میں پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی میلے کی تمام رنگینی چھین لی گئی تھی اور اس کی وجہ سے گزشتہ انتخابات صرف امیدواروں کے انتخابات بن کر رہ گئے تھے اور عوام نے اس میں روائتی جوش و جذبہ سے شرکت نہیں کی جو اس سے پہلے ہونے والے انتخابات کا خاصہ تھی

The post لیہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدواروں کے خلاف درج مقدمات سربمہر کردیئے گئے appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan http://bit.ly/2M8LBzk
Share:

Tuesday, 8 January 2019

مظفر گڑھ میں الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پرانتخابی امیدواروں کے خلاف 16 مقدمات درج کیے گئے ان میں سے3 ایف آرز سیل کر دی گئیں

گزشتہ عام انتخابات کے دوران ضلع مظفرگڑھ میں اتنخابی امیدواروں کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی پر 16 سیاستدانوں پر مقدمات کا اندراج کیا گیا تھا جن میں تھانہ سٹی مظفرگڑھ میں سردار عبدالحئی دستی امیدوار حلقہ PP- 270 اور ان کے ورکرز کے خلاف آتش بازی اور پنجاب ساونڈ سسٹم آرڈیننس کی خلاف ورزی پر  ایف آئی آر نمبر297/18 زیر دفعات 188 ت پ، 285 ت پ اور286 ت پ کے تحت درج کی گئی۔تھانہ محمود کوٹ میں ایف آئی آر نمبر 245/18 پنجاب ساونڈ سسٹم آرڈیننس 2015 کے تحت آزاد امیدوار راو اکمل خان امیدوار حلقہ PP-278 کے خلاف درج کی گئی۔ تھانہ چوک سرور شہید میں ایف آئی آر نمبر 340/18 زیر دفع 188 ت پ کے تحت محمد اعجاز حسین جوکہ کیری ڈبہ نمبری MNT/2078 برنگ سبز پر مختلف امیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہا تھا کے خلاف درج کی گئی۔ تھانہ شاہ جمال میں ایف آئی آر نمبر 533/18 پنجاب ساونڈ سسٹم آرڈیننس زیر دفع 188 ت پ کے تحت آزاد امیدوار احمد کریم قسور لنگڑیال امیدوار NA-184 کے خلاف درج کی گئی۔ تھانہ شاہ جمال میں ایف آئی نمبر 534/18 پنجاب ساونڈ سسٹم آرڈیننس زیر دفع 188 ت پ کے تحت عون حمید ڈوگر امیدوار PP- 274 کے خلاف درج کی گئی۔ تھانہ سول لائنز میں ایف آئی آر نمبر 319/18 پنجاب ساونڈ سسٹم آرڈیننس کی خلاف ورزی پردفع 188ت پ کے تحت محمد اکبر کیری ڈبہ نمبری MLH/6507 جوکہ عمر دراز فاروقی کی کمپین کر رہا تھا کے خلاف درج کی گئی۔ تھانہ روہیلانوالی میں ایف آئی آر نمبر 367/18 پنجاب ساونڈ سسٹم آرڈیننس کی خلاف ورزی پر دفع 188 ت پ کے تحت سردار اختر خان گوپانگ ، سردار افتخار خان گوپانگ اور ورکرز کے خلاف درج کی گئی۔ تھانہ محمودکوٹ میں ایف آئی آر نمبر 251/18 دفع 188 ت پ کے تحت آزاد امیدوار ایم پی اے ملک باسط کھر اور ان کے ورکرز کے خلاف درج کی گئی۔ تھانہ شاہ جمال میں ایک اور ایف آئی آر 532/18 دفع 188 ت پ کے تحت محمد عارف اور محمد اشفاق کے خلاف کیری ڈبہ پر ساونڈ سسٹم لگانے اور چلانے کی وجہ سے درج کی گئی۔ تھانہ قریشی میں بھی ایف آئی آر نمبر 421/18 دفع 188 کے تحت دلاور فتح خان سہرانی کےخلاف پنجاب ساونڈ سسٹم آرڈیننس کی خلاف ورزی پر درج کی گئی۔ اسی طرح مزید 6 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 3 ایف آئی آرز سربمہر کر دی گئی ہیں واضع رہے کہ تمام مقدمات میں صرف 13 فردار چلان کی جا سکے جبکہ باقی مقدمات کی نہ تو تفتیش آگے بڑھائی گئی اور نہ ہی مزید ملزمان چلان کیے جا سکے ہیں پاکستان پینل کوڈ کے مطابق ان تمام مقدمات کی سزائیں کم ازکم 25 ہزار روپے جرمانہ اور زیادہ سے زیادہ 7 سال قید ہے
ذرائع کے مطابق انتہائی موثر امیدواروں کے خلاف درج مقدمات سربمہر کردیے گئے ہیں تاکہ مناسب وقت پر ان مقدمات کے تحت ان کے خلاف کاروائی کی جائے.
پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر ملک ارشد جاوید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوران الیکشن امیدواروں اور ان کے ورکرز کے خلاف درج ایف آئی آرز کی کاروائی مکمل ہونی چاہیے اگر گورنمنٹ فی الوقت ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو ان ایف آئی آرز کو خارج کر دینا چاہیے کیونکہ میں پہلے اسی نوعیت کا ایک مقدمہ بھگت چکا ہوں جنرل پرویز مشرف کے دور مارشل لاء میں میرے خلاف مقدمہ درج کر کے سیل کر دیا گیا تھا جسے بعد میں استعمال کیا گیا اور مجھے اپنی وفاداریاں بدلنے کے لیے بلیک میل کیا گیا تھا
سینئر قانون دان میاں احسان کریم قریشی ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تمام سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں اور اپنے مقدمات کا نمٹانے کے لیے درخواست دائر کریں مظفرگڑھ میں تو پولیس عدالت کے بار بار احکامات کے باوجود غریب سائلین کی بات نہیں سنتی حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ محکمہ پولیس میں ریفارمز لے کر آئے اور کوڈ اف کنڈکٹ کو لاگو کرے کیونکہ انصاف صرف باتوں سے نہیں مل سکتا اس کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں
پولیس کا کہنا ہے کہ جو مقدمات سیل کیے جا چکے ہیں اگر ان کی کاروائی بڑھائی گئی تو جن سیاستدانوں کے خلاف مقدمات درج ہیں وہ بااثر ہیں ہنگامہ آرائی کے خدشات ہیں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے حالانکہ اس سے پہلے پنجاب کے مضبوط ترین سیاستدان میاں محمد شہباز شریف اورمیاں محمد نواز شریف کوگرفتار کیا گیا جبکہ آصف علی زردای اور دیگر بڑے سیاستدانوں کی گرفتاری کی تیاریاں کی جاری ہیں تو ضلع مظفر گڑھ کے سیاستدانوں کے خلاف درج مقدمات کی کاروائی جاری رکھنے پر ہنگامہ آرائی کے خدشات ظاہر کرنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اگر ایسے ہی انتقامی سیاست کا کھیل جاری رہا تو احتساب تو درکنار غریب انصاف کو ترستا رہے گا اور تاریخ میں ہمیں برے لفظوں سے ہی یاد کیا جائے گا

The post مظفر گڑھ میں الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پرانتخابی امیدواروں کے خلاف 16 مقدمات درج کیے گئے ان میں سے3 ایف آرز سیل کر دی گئیں appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan http://bit.ly/2sdWAhx
Share:

Thursday, 27 December 2018

ڈھرنال میں خواتین کے ووٹ پول کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی

2018 کے عام انتخابات میں 5 دہاٸیوں بعد پانچ ہزار میں سے صرف 14 عورتوں نے اپنا حقِ راۓ دہی استعمال کیا۔

چکوال: ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا گائوں ڈھرنال تاریخی حیثیت کا حامل ہے ڈھرنال کی وجہ شہرت یہاں سے تعلق رکھنے والے محمد خان ڈھرنال بنے جنہیں ”وادی سون کا رابن ہڈ“ کا نام دیا گیا ایک دور تھا جب محمد خان ڈھرنال کا طوطی بولتا تھا ڈھرنال میں ایک عرصہ تک دہ متحارب گروپوں کے درمیان قتل وغارت گری جاری رہی ، یہاں کے لوگ آج بھی معاشری روایات کا پاس رکھے ہوئے ہیں 60کی دہائی میں یہاں انتخابات کے دوران خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر دو مختلف گروہوں کی خواتین باہم دست وگریباں ہوگئی تو گائوں کے مردوں نے متفقہ طور پر خواتین کو ووٹ دینے سے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے دعائے خیر کردی پانچ دہائیوں تک ڈھرنال کی خواتین نے ووٹ کاسٹ نہ کیا 2018 کے قومی انتخابات میں 5دہائیوں کی روایت توڑتے ہوئے خواتین پہلی بار حق رائے دہی استعمال کیا 29جولائی 2018کو ” ڈان” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ”پوٹھار آرگنائزیشن” فارڈیوپلمنٹ ایڈووکیسی (پودا ) کے تعاون سے روبینہ شہزاد نامی خاتون نے مقامی خواتین میں حق رائے دہی کے استعمال بارے شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیااس سے قبل ایک مقامی معلم نے گائوں کے لوگوں کو اس بارے آگاہی دینے کی کوشش کی تو گائوں کے لوگوں نے اس کا سوشل بائیکاٹ کردیا ، ڈھرنال میں خواتین کے مجموعی طور پر 5501ووٹ رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 25جولائی کو ہونے والی قومی انتخابات میں صرف 14ووٹ پول ہوئے ۔ جبکہ 14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں یہ تعداد 17 تک پہنچی۔ ڈھرنال جو ایک عرصہ تک قتل وغارت کے زیر اثر رہا آج بھی زمانے سے الگ تھلگ عہد رفتہ کی داستانیں سناتا ہے ۔ایک معاصر روزنامے کے صحافی یوں رقم طراز ہیں اور نہوں نے سوشل میڈیاپر اس انداز میں تبصرہ کیا ہے کہ” یہ تصویر چکوال کے معروف قصبہ ڈہرنال کی ہے.ڈہرنال کی وجہ شہرت ایک مبینہ ڈاکو محمد خان ڈہرنال کی وجہ سے ہے.محمد خان اساطیری شہرت رکہتے ہیں.انہیں وادء سون کا رابن ہڈ کہا گیا.کہا جاتا ہے کہ اس نے ہمیشہ غریبوں کی مدد کی.محمد خان کو بارہا گولیاں چہو کر گزری مگر وہ 1996 میں طبعی موت مرے.ڈہرنال میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر بہی غیر اعلانیہ پابندی ہے.اس تصویر جیسے کٸی گہر اب بہی ڈہرنال میں موجود ہیں جن کے مکین نجانے کب کے کہاں جا بسے ہیں. ”ضلعی جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی ملک ہاشم خان کا تعلق بھی ڈھرنال سے ہے جوکہ 2018کے قومی انتخابات میں اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوارتھے۔ ملک ہاشم نے نیوز لینز پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وٹ قومی امانت اور وہ اپنے طور پر مقامی بااثر افراد کے ساتھ مل کر گاٶں کے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور پر امید ہیں کہ آئندہ انتخابات تک گائوں کی عورتوں کی کثیر تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گی ۔
رضیہ یہاں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی دو بڑی وجوہات بیان کرتے ہوے بتاتی ہیں کہ اگر خواتین ووٹ ڈالنے جاٸیں اور وہاں کوٸی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش آ جاۓ تو اس کی ذمہ داری لامحالہ خواتین پر آ سکتی ہے دوسری وجہ یہ یے کہ یہاں کی خواتین کم پڑھی لکھی ہیں اور وہ ووٹ ڈالنا اس لٸیے بھی ضروری نہیں سمجھتی کہ ان کے خیال میں سیاست مردوں کا کام ہے اور ووٹ ڈالنے سے انہیں براہ راست کوٸی فاٸدہ نہیں پہنچتا یہی وجہ ہے کہ پانچ دہاٸیوں سے یہاں خواتین نے ووٹ ڈالنے کے لیٸے کوٸی تگ و دٶ نہیں کی۔

The post ڈھرنال میں خواتین کے ووٹ پول کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan http://bit.ly/2SntYOy
Share:

عام انتخابات 2018 میں پولنگ ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے جانبحق ہونے والے سکول ٹیچر کے لواحقین کو بقایا جات نہ مل سکے

عام انتخابات 2018 میں گورنمنٹ پرائمری سکول بستی شاہ نواز کے PST ٹیچر سید طاہر رضا شاہ رضوی کو پولنگ ڈے کی ذمہ داریوں کی تربیت حاصل کرنے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج رائے محمد یاسین نے پولنگ آفیسر کے فرائض سرانجام دینے کے لیےبستی جیسل نشیب میں تعینات کیا تھا الیکشن ڈے سے ایک روز قبل سید طاہر رضا شاہ سمیت تمام اساتذہ نے شدید گرمی اور حبس برداشت کرتے ہوئے قطاروں میں لگ کر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفس سے پولنگ کا سامان وصول کیا اور اپنی اپنی ڈیوٹی کی جگہ شام 5 بجے رپورٹ کیا اگلے دن 8:30 منٹ پر پولنگ کا عمل شروع ہوا دوران ڈیوٹی لگ بھگ 10 بجے سیدطاہر رضا شاہ کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے حالت بہت زیادہ خراب ہو گئی ریسکیو 1122 کی ٹیم نے انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا لیکن حالت زیادہ ناسازگار ہونے کی وجہ سے وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے یہ خبر ان کے اہل خانہ کے لیے یقینا ناخوشگوار تھی ان کے چھوٹے بھائی سید عابد رضا شاہ رضوی نے اپنے بھائی کی نعش وصول کی اور محکمہ تعلیم کے بڑے افسران کی موجودگی میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ انہیں سپرد خاک کر دیا گیااس سارے واقعے کو 4 ماہ کا عرصہ گزر گیا لیکن تاحال سید طاہر رضا شاہ رضوی کے اہل خانہ کو ایک بھی تنخواہ جاری نہیں کی جا سکی دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مرحوم کے بچوں سے افسوس اور امداد تو درکنار سید طاہر رضا شاہ کی خدمات کا معاوضہ بھی ان تک نہ پہنچ سکا

سید طاہر رضا شاہ مرحوم کی اہلیہ نے بتایا کہ محکمہ ایجوکیشن کے اعلی افیسران نے یقین دھانی کروائی تھی کہ مرحوم کی 60 سال عمر کی سروس تک محکمہ ہمیں مکمل تنخواہ جاری کرے گا اس کے بعد پینشن شروع کردی جائے گی لیکن آفیشیل ریکارڈ کی سخت شرائط پوری نہ ہونے کہ وجہ سے 4 ماہ بعد بھی تنخواہ جاری نہیں ہو سکی انہوں نے بتایا کہ سید طاہر رضا شاہ کی ایک بیٹی ارج فاطمہ ہے جو چھٹی کلاس کی طلبہ ہے اور ایک بیٹا محمد حسن شاہ رضوی ہے جو دسویں کلاس کا طالب علم ہے زرعی رقبہ نہ ہونے کی وجہ سے بمشکل گزارا ہو رہا ہے سید طاہر رضا شاہ مرحوم ذیابیطس، بلڈپریشر اور دل کی بیماری میں مبتلا تھے ان کی وفات کے بعد محکمہ الیکشن کمیشن اور الیکشن میں حصہ لینے والے سیاست دانوں میں سے کسی نے بھی کوئی امداد نہیں کی اور نہ ہی کبھی احوال پرسی کے لیے آئے

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشنر ملک جاوید اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ سید طاہر رضا شاہ کے بقایا جات اور دیگر فنڈز کا جواب دہ محکمہ ایجوکیشن ہے الیکشن کے حوالے سے تمام معاوضہ جات متعلقہ پریذائیڈنگ آفیسر کے پاس ہوتے ہیں الیکشن ایک قومی فریضہ ہے اسے انجام دیتے ہوئے جانبحق ہونے والے اہلکاروں کو خصوصی فنڈز دینے بارے کوئی قانون موجود نہیں ہے

محکمہ تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایلمنٹری آفیسر احسن فرید نے بتایا کہ سید طاہر رضا شاہ کا نکاح نامہ رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے فائل میں رجسٹرڈ نکاح نامے کی ضرورت ہے ان کے اہل خانہ کو کہا ہوا ہے جیسے ہی نکاح نامہ مل جائے معمولی کاروائی کے بعد تنخواہ مرحوم کی بیوہ کے نام جاری کردی جائے گی

معروف قانون دان چوہدری محمد اسلم ایڈووکیٹ نے قانونی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بیوہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایام عدت میں گھر سے باہر نہ نکلے لیکن ہمارے دفاتر کی قانونی کاروائیاں اور فائلیں اس خاتون کو ایسا نہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تمام آفیسرز غیرقانونی کام تو چند لمحات میں نمٹا لیتے ہیں لیکن یہ قانونی کاروائی مہینوں مکمل کیوں نہیں کی جاسکی ہمیں افسوس ہے کہ ڈپٹی کمیشنر لیہ اور سی او ایجوکیشن نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کام کو ازجلد نمٹانے کے آرڈرز جاری کیوں نہ کیے اس کوتاہی پر ڈپٹی کمیشنر لیہ، ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر، ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشنر، سی ای او ایجوکیشن سمیت پریذائڈنگ آفیسر مجرم ہیں کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ایسا ہوتا تو تمام آفیسرز کورٹ میں کھڑے ہوتے حکومت وقت کو اس معاملے کا نوٹس لے کر جلد قوم کے اس معمار کے گھر کو چولہا جلائ

The post عام انتخابات 2018 میں پولنگ ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے جانبحق ہونے والے سکول ٹیچر کے لواحقین کو بقایا جات نہ مل سکے appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan http://bit.ly/2Ah6ZxI
Share:

Tuesday, 18 December 2018

لیہ میں سکولوں کی حالت زار

لیہ میں ایک ایسا سکول بھی موجود ہے جوشدید سردی میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر علم کے روشنی پھیلانے کے لیے کوشاں ہے بغیر چھت کے سکول کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سکول وزیر اعلی پنجاب کے ایڈوائزر سید رفاقت گیلانی کے حلقہ میں واقع ہے
پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمپین کے دوران ووٹرز سے تعلیمی بجٹ میں اضافہ، سکول سے باہر سکول جانے والی عمر کے بچوں کا سکولوں میں داخلہ،نظام تعلیم کی بہتری، مفت صحت و تعلیم دینے اورغریب طبقے کو غربت کی لکیر سے نکالنے جیسے وعدوں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے لیکن 100 دن سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود لیہ شہر کے وسط میں آباد کچی آبادی کے مکین بچوں کو محکمہ تعلیم قریبی سرکاری سکولوں میں داخل کروانے میں ناکام ہے 
پل انگڑا کے قریب آباد کچی آبادی کے مکینوں نے بتایا کہ ایک نجی تنظیم کی تقریب میں انہیں بتایا گیا کہ غربت سے نکلنے کا واحد ہتھیار بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے اس کے بعد ہم تمام بستی والوں نے بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا اور حصول تعلیم کے لیے تمام بچوں کو قریبی گورنمنٹ سکول میں داخل کروا دیا تاکہ بچے پڑھ لکھ کر اچھے شہری بن سکیں لیکن سکول میں اساتذہ کے غیر منصفانہ رویے اور دوسرے بچوں کی مار پیٹ کی وجہ سے جلد ہمارے بچوں نے سکول جانا چھوڑ دیا انہوں نے شہر کے معززین سے بات کی کہ ہم بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن تعلیم کی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے نہیں پڑھا پا رہے سماجی کارکنوں اور خداترس شہریوں کی مدد سے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ نے بستی میں غیر روائتی سکول بنا دیا 1 مارچ 2018 کو سکول کا ہوا جس پر ہم سب والدین سمیت بچے بھی بہت خوش ہوئے تمام بچے روزانہ صبح 8:30 بجے سکول جاتے ہیں اور 12:30 بجے تک تعلیم حاصل کرتے ہیں
بستی کے رہائشی قمر عباس جوکہ بلدیہ میں کلاس چہارم کا ملازم ہے نے بتایا کہ والدین کی اولین ترجیح اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا اور اچھا انسان بنانا ہوتی ہے لیکن محدود وسائل کی وجہ سے تعلیم دلوانا مشکل ہوجاتا ہے لٹریسی سکول بن جانے سے ہمارے بچوں کو تعلیم تو مل رہی ہے لیکن دسمبر کی اس شدید سردی میں کھلے آسمان تلے اس چھونپڑی میں صبح سویرے بچوں کا آنا اور تعلیم جاری رکھنا بہت مشکل ہے بجائے اس کے کہ گورنمنٹ سکول کے اساتذہ کو منصفانہ رویے پر آمادہ کیا جاتا ہمارے بچوں کو شدید سردی اور تیز ہواوں میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر تعلیم کی نعمت سے نوازا جارہا ہے ہم اس پر بھی حکومت وقت کے شکر گزار ہیں مخیر حضرات کے تعاون سے بچوں کو بستے اور کاپیاں تو مل گئی ہیں لیکن جوتے، جرسیاں اور ٹھنڈی ہوا کو روکنے کے لیے تاحال کوئی انتظامات نہیں ہو سکے
سکول ٹیچر تصور عباس کا کہنا ہے کہ غربت تعلیم کے راستے میں حائل ضرور تھی لیکن بستی کے بچے عام سہریوں کے بچوں کی طرح ذہین ہیں اور ذمیہ کام ذمہ داری سے کرکے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں محدود تنخواہ کے باوجود صدقہ جاریہ سمجھتے ہوئے غریب پسماندہ بستی کے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے کوشاں ہوں حکومتی نمائندگان کو چاہیے کہ بچوں کے بیٹھنے اور سردی سے بچنے کے لیے انتظامات کریں بچوں کو بنیادی سہولیات مل جائیں تو ان کا مستقبل سنور جائے گا
مشیر وزیر اعلی پنجاب سید رفاقت علی گیلانی نے بتایا کہ جلد صوبہ بھر میں تعلیمی اصلاحات لارہے ہیں جس کے تحت سکول سے باہر سکول جانے کی عمر کے تمام بچوں کو سکول داخل کروایا جائے گا۔
پروجیکٹ انچارج لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ مہر انوار تھند نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایسے علاقہ جات جہاں سکول دور ہو اور بچوں کی زیادہ تعداد سکول نہ پہنچ سکے وہاں لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ ہنگامی بنیادوں پر غیر روائتی سکول کا قیام کرتا ہے اور بچوں کو تعلیم کی سہولیات فوری بہم پہنچائی جاتی ہیں کچی آبادی کے بچوں کو استاد اور کتابیں مہیا کردی گئی ہیں دیگر اخراجات اور لوازمات لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
بقول شاعر
کشکول میں جس روز کوئی بھیک نہ ہوگی
وہ رات میری قوم پر تاریک نہ ہوگی
اس شہر کے ماتھے پر لکھی ہے تباہی
جس شہر کی مکتب کی فضا ٹھیک نہ ہوگی

The post لیہ میں سکولوں کی حالت زار appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan https://ift.tt/2EtWXMf
Share:

ٹرانسپورٹ کے مسائل عوام کے لیے درد سر بن گئی

شجاع آباد ملتان: 2018ءکے الیکشن میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور موجودہ ایم این اے خان ابراہیم خان نے اپنی الیکشن کمپیئن میں وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم اقتدار میں آئے تو کسی بھی ایسے پروجیکٹ پر پیسے خرچ نہیں کرنے دیئے جائیں گے جو کہ صرف اور صرف چند لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو۔ اور سپیڈو بس کی سرو س شجاع آباد اور بستی ملوک سے بھی شروع کی جائے گی ۔ اسی وعدے کو مزید تقویت اس وقت ملی جب کمشنر ملتان عمران سکندر نے کھلی کچہری میں وعدے کو جلد تکمیل کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ جو کہ تاحال وعدے کو پورا  نہ کیا جاسکا۔

شجاع آباد کی آبادی تقریباً5لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے لیکن یہاں ٹرانسپورٹ کا سسٹم انتہائی ناقص ہونے کی وجہ سے لوگ شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ملتان سے تقریباً45کلو میٹر ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس آبادی کو ملتان سے قریب تر ہو نے کی وجہ سے تعلیم اور صحت کو حاصل کرنا کے لیے بھی ملتان جانا پڑتا ہے جس بنا پر لوگ باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ کے نہ ہونے کی بنا پر چند اجارہ دار اس کا بھر پور فائندہ حاصل کررہے ہیں اور عوام ان کے ہاتھوں لٹی جارہی ہے ۔ کرایوں کی مد میں لوگوں کے آئے روز جھگڑے سامنے آتے ہیں جس میں مسافروں کاکہنا ہوا ہے کہ حکومتی ادارے سوئے رہتے ہیں اور ٹرانسپورٹر حضرات ہم کو لوٹنے کا حق سمجھ بیٹھے ہیں۔

وازارت ریلوے اپنے کارکردگی کے بہت بڑے بڑے دعوے کررہی ہے شجاع آباد سے کراچی جانے کے لیے سوائے زکریا ایکسپریس کے علاوہ کسی اور ٹرین میں کوٹہ کی جگہ نہ ہے اور بھی اتنا قلیل ہے کہ صرف 45لوگ ہی روزانہ کی بنیاد پر کراچی جاسکتے ہیں جبکہ شجاع آباد اسٹیشن تین مین شہروں کی آبادی کو ریلو ے کی سہولت فراہم کررہا ہے جس کے لیے یہ 45سیٹیں اونٹ کے منہ میں زیرے کی مانند ہیں۔ جبکہ دوسری جانب کاروباری حضرات کے لیے فیصل آباد ، لاہور،پشاوراور کوئٹہ جانا انتہائی مشکل ہوچکا ہے کیونکہ ان علاقوں کو جانے والی ٹرینوں کا سٹاپ نہ ہے ۔ جس بنا پر پبلک ٹرانسپورٹر چاندی ہے اور عوام الگ الگ مسائل کا شکار ہے صدر انجمن تاجران محمد یعقوب قریشی کہتے ہیں کہ فیصل آباداور کراچی آمد رفت کےلئے مزید ٹرینوں کے سٹاپ کو ممکن بنایا جائے۔ طلباءرہنما عبد الرحمن خلجی کہتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملتان اور دور دراز کے علاقوں میں جانا پڑتا ہے جس کے لیے کرائے انتہائی زیادہ بڑھنے پڑھتے ہیں ہمارے تعلیمی اخراجات بے تحاشہ بڑھ جاتے ہیں تنگی الگ سے برداشت کرنی پڑتی ہے حکومت سپیڈو بس کا شجاع آباد سے جلد اجراءکیا جائے۔

دوسری جانب خان ابراہیم خان ایم این اے NA-158کا کہنا ہے کہ شجاع آباد ایکسپریس وے کی تکمیل ہوتے ہی سپیڈ و بس سروس کا اجراءہوجائے گا جو کہ آئندہ مہینے انشاءاللہ ممکن ہوگا۔ پاکستان اور جعفر ایکسپریس کا سٹا پ کا اعلان وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمدجلد کریں گے۔ جبکہ ڈویژنل سپرٹنڈنٹ امیرحسین دائود پوتا سے رابطہ کرنے پر اس سے تو بات نہ ہو سکی البتہ ایک ذرائع کے مطابق ابھی تک ایسے کوئی اقدامات سامنے نہیں آرہے ۔

حکومت اگر دیہی علاقے کے لوگوں کی نقل و حرکت ، تعلیم و صحت اور پینے کے صاف پانی فراہم کردے تو لوگ بڑھے شہروں کی طرف منتقلی رک جائے گی اور اس طرح بڑے شہروں میں آبادی کا دباﺅ کم ہوجائے گا۔ اور عوام کو سہولیات کی فراہمی یکساں فارمولے کے تحت ہر شخص کو حاصل ہوگی جس سے صحت بھی بہتر ہوگی لوگ بھی تعلیم یافتہ ہوں گے۔ اور ان کی زندگی میں ڈپریشن جیسے موزی مرض سے بھی نجات رہے گی۔ اور سے سے اہم چیز ماحولیاتی آلودگی سے بھی نجات حاصل رہے گی۔ ادارے صحیح طرح پرفارم کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کیونکہ جب بڑے شہروں میں آبادی بے ہنگم رہنے لگے تو دہشت گردی کے خطرات کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل بھی از خود پیدا ہو جاتے ہیں اس کا واحد حل ہے کہ نئے شہر آباد کیئے جائیں یا بڑے شہروں کی طرف منتقل ہونے والی آبادی انہی علاقوں میں روکا جائے ۔

The post ٹرانسپورٹ کے مسائل عوام کے لیے درد سر بن گئی appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan https://ift.tt/2EysI7X
Share:

ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک کے مسائل

شجاع آباد ملتان: جنوبی پنجاب میں صحت کے مسائل بہت سے ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک خاموش قاتل بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس خاموش قاتل کو ہیپاٹائٹسB,C کہتے ہیں جس نے سینکڑوں گھرانوںصحت کے سنگین مسائل سے دوچار کردیا۔ اس کی وجہ انتہائی مہنگا علاج اور غریب کی پہنچ سے دور ہونا ہے۔

جنوبی پنجاب میں شجاع آباد واحد تحصیل ہے جس میں 72سے 75فیصد لوگوں کو اس بیماری نے اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے یہ رپورٹ HCP(ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام )کی طرف سے شائع کردہ ہے ۔ اسی بنا پر 2001ء میں شجاع آباد سول ہسپتال میں تحصیل لیول پر PCRلیب کا قیام رکھا گیا لیکن میڈیسن موجود نہ ہونے کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ کنٹرول نہ ہو پایا کچھ عرصے تک مخیر حضرات کی وجہ سے میڈیسن ملتی رہی 2008ءکے بعد جب مسلم لیگ نواز کی پنجاب میں حکومت آئی تو اس میںPCRلیب بند کردی گئی اور آنے والی دور میں 15دسمبر2017کو PKLI(پاکستان کڈنی اور لیور انسٹیوٹ) کے نام سے ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک کا افتتاح کیا گیا جس کی وجہ سے تقریباً3ہزار مریضوں کو استفادہ حاصل ہوا اور اس وقت بھی اس سے فائدہ حاصل کررہے ہیں لیکن آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2اگست سے 24- PKLI سنٹرز کو کام کرنے سے روک دیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں مریض کی زندگیاں داﺅ پر لگ گئی۔ 2اگست سے قبل PKLIکے شجاع آباد کے سنٹر پر 130سے 140افراد روزانہ کی بنیاد پر 15سے 20دن میں علاج کی سہولت سے مستفید ہوتے تھے ۔ جو کہ مالی مشکلات کی وجہ سے اب روزانہ 55سے 60افراد 4سے 6ماہ تک کے لمبے ٹائم پریڈ کے بعد ادویات حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ بھی موجودہ ایم این اے خان ابراہیم خان کی خصوصی کاوش پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے شجاع آباد سنٹرکو ہنگامی بنیادوں پر اجازت دی۔ جبکہ ماہ نومبرمیں لاہور سے HCPکی طرف سے خصوصی ٹیم کی آمد کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کو شجاع آباد میں ہیپاٹائٹس سے نپٹنے کے لیے ہیپاٹائٹس کنٹرول کرنے کی نافذ کرنے کی شفارش کی ۔اس شفارشات کے برعکس PKLIکے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مالی مشکلات کی وجہ سے پیسنٹ ریشو کو مزید کم کیا جائے اور ملازمین کو فارغ کیئے جانے کا عندیہ دیا جاچکا ہے ،جو کہ ایک تشویس ناک خبر ہے اور سروس ٹائمنگ میں کمی کرنے کا حکم بھی جاری کیا جاچکا ہے ۔ جو کہ عوام کے لیے وبال جان بھی بنے گا۔ ڈاکٹروقاص کا کہنا ہے کہ میں نے ایف سی پی ایس کیا ہے مجھے اس سے زیادہ تنخواہوں کی آفر تھی لیکن میں نے اس ادارے میں کام کرنے کو پسند کیا تھا کہ ایک صاف ستھراماحول اور انٹر نیشنل سٹنڈرڈ کے مطابق ہمیں کام کرنے کا موقع ملے گا میں عوام کی خدمت کرنے کرکے فخر محسوس کرتا ہوں۔لیکن موجودہ حالات میں کام کرنا ناگزیز ہوگیا ہے اس لیے میں نے استیفاہ دے دیا ہے۔محمد زبیر جو کہ ایک پیشنٹ ہے ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے میرا بڑا بھائی اس بیماری سے چل بسا ہے جسکا مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کیونکہ ہم روزنامہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں اور جس تنخواہ سے  ہمارے گھر کےاخراجات بڑی مشکل سے پورے ہوتے ہیں اسی وجہ سے ہم اپنے بھائی کا علاج نہ کراسکیں ہیں یہ ہمارے لیے بہت ملال  کا مقام ہے ۔اب میں بھی اسی بیماری میں مبتلا ہوں۔ مجھے یہاں سے جو دوائی ملتی ہے وہ انتہائی معیاری اور میرے لیے امرت ہے ۔سکینہ نامی مریضہ جو کہ گزشتہ سال سے اسی بیماری میں مبتلا ہیں جو کہ ایک دیہات کی رہائشی ہے اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہے کہ وہ اپنا علاج کراسکے۔اس  کی دوست نےاس کو بتایا کہ ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک میں مفت ادویات مل رہی ہیں اور اس نے یہاں سے علاج کروانے کے لیے آئی لیکن اس کو چار مہینے بعد کا ٹائم ملنے پر وہ شدید پریشان ہے ۔   اس حوالے سے ہماری جمعیت علماءاسلام ف کے صوبائی رہنما مولانا رضا المنعم سے بات ہوئی جن کا کہنا ہے حکومت تبدیلی کے دعوے کے سوااور کچھ نہیں کررہی ہے جس کی مثال سامنے ظاہرہے کہ صحت یا دیگر عوامل ان کی ترجیحات پر نہیں ہیں۔جبکہ تحریک انصاف کے تحصیل صدر حافظ کامران سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ ایم این اے خان ابراہیم خان اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان قسم کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بہت جلد ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کرےگی۔جس میں PKLIکی ازسرنو ریلز کیا جائے گا۔گائنی وارڈ کے قیام اور ٹراما سنٹر کو مکمل بحال کرنے کا عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ ڈاکٹر وقاص ایف سی پی ایس انچارج PKLIشجاع آباد کاکہنا ہے کہ اگر متعلقہ حکام نے ادویات فراہم نہ کی گئی تو جن مریضوں کو ادویات مل رہی ہیں ان کی ادویات مجبوراً بند کرنی پڑے گی۔

تما م صورت حال بتاتی ہے کہ اگر PKLIہیپاٹائٹس فلٹر کلینک بند کردیا گیا توشجاع آباد کی عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا پہلے ہی شجاع آباد میں ہر گھر میں ہیپاٹائٹس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بہت ساری اموات مزید ہوسکتی ہیں۔

The post ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک کے مسائل appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan https://ift.tt/2ErmGVI
Share:

Sunday, 9 December 2018

رحیم یار خان کی سیاست میں خواتین کا کردار

رحیم یار خان: الیکشن ایکٹ 2017 ء کے مطابق تمام سیاسی پارٹیوں کو پابند کیا گیا تھاکہ جنرل نشستوں میں سے پانچ فی صدپر ٹکٹیں خواتین کودی جائیں لیکن ضلع رحیم یار خان کی نشستوں پر تمام سیاسی جماعتوں نے صرف مرد حضرات کوہی ٹکٹ جاری کئے۔ الیکشن 2018 ءمیں رحیم یار خان کے 6 قومی اسمبلی اور 13 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں سے صرف تحریک ِ انصاف واحد جماعت تھی جس نے ایک صوبائی حلقے میں مریم بتول نامی خاتون کو ٹکٹ دیا جو کہ تیسری پوزیشن پر آئی تھیں۔ اس حلقہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا تھا۔ رحیم یار خان ضلع کی سیاسی تاریخ میں ایسی خواتین موجود ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں سے سیاست میں حصہ لے رہی ہیں اور سیاسی جماعتوں میں سیاسی ورکر کی حیثیت کے ساتھ ساتھ کلیدی عہدوں پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔ لیکن رحیم یار خان کی تاریخ میں آج تک کوئی بھی خاتون عام انتخابات میں جنرل نشست پر کامیاب نہیں ہوسکی۔
پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی ممبر ضلع کونسل اور وومن ونگ رحیم یارخان کی جنرل سیکرٹری خالدہ نے بتا یا کہ گزشتہ عام انتخابات میں جنرل نشستوں پر ان کی پارٹی نے کسی بھی خاتون کو ٹکٹ نہیں جاری کیاتھا اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ پارٹی کے ٹکٹ کے لئے امیدوار زیادہ تھے اور پارٹی کو آخر تک یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کس کو ٹکٹ دی جائے اور کس کو نہ دی جائے۔ ایسی صورت حال میں مرد امیدوار ہی پارٹی فیصلوں سے مطمئن نہیں ہو رہے تھے تو وہاں خواتین کو کیسے ترجیح دی جاتی۔انہوں بتایا کہ رحیم یار خان سے ماضی کی طرح صرف مخصوص نشستوں پر خواتین کو نمائندگی دی گئی ہے ۔ رحیم یار خان کی تاریخ میں بہت سے خواتین نے سیاست میں حصہ لیا اور اپنا کردار ادا کیا لیکن بد قسمتی سے یہاں کبھی بھی کوئی خاتون امیدوار عام نشست پر کامیاب نہیں ہو سکی اور اس کی وجہ پارٹی سپورٹ اور مقامی سطح پر حوصلہ افزائی کا نہ ہونا ہے۔ 
پاکستان تحریک انصاف کی خواتین ونگ رحیم یارخان کی صدرصائمہ طارق جو کہ گزشتہ چھ سالوں سے پاکستان تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں نے اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پارٹی نے ضلع رحیم یار خان میں ایک صوبائی جنرل نشست پر مریم بتول کو ٹکٹ دیا تھا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکیں ۔ ضلعی سیاست کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہا ں خواتین جنرل نشست پر خواہش مند ہی نہ تھیں کہ وہ انتخابات میں حصہ لیںتاہم مخصوص نشستوں کے لئے دو خواتین نے پارٹی کو درخواست دی تھی۔ لیکن عمومی رویہ یہی ہے کہ اگر کوئی خاتون الیکشن لڑنے کے لئے تیار بھی ہو تو اسے کہا جاتا ہے کہ آپ کے لئے سپیشل سیٹیں ہیں آپ جنرل نشستوں کی بجائے ان کے لئے درخواست دیں۔ یہی وجہ ہے کے خواتین عام انتخابات میں حصہ لینے کی بجائے مخصوص نشستوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ جنرل نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے اگر کوئی خواہش مند خاتون ہو بھی تو وہ الیکشن میں کئے جانے والے اخراجات کی متحمل نہیں ہوتیں اور اس کے علاوہ ایک اور وجہ خواتین کے اندر الیکشن لڑنے کی سوچ ہی نہ ہونا ہے۔ رحیم یارخان سے ایک ہی خاتون نے جنرل نشست کے لئے درخواست دی تھی اور وہ پارٹی نے قبول کی اور ٹکٹ جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاست میں آگے آنے کے کم مواقع ملنے ایک وجہ موروثی سیاست بھی ہے اگر باپ کے بعدبیٹا سیاست میں حصہ لے تو اسے ہمارے عوام ووٹ دیتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے لئے زرتاج گل ایک رول ماڈل ہیں جنہوں نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔ زرتاج گل نے بہت محنت کی اور اس علاقے سے کامیابی حاصل کی جہاں سرداری اور آبائی سیاست تھی۔ انہوں نے کہا اگلے الیکشن میں رحیم یار خان کی خواتین محنت کر رہی ہیں اور اپنا گراونڈ ورک بھی کر رہی ہیںانہیں امید ہے اگلے عام انتخابات میں یہاں سے خواتین بھر پور تیاری کے ساتھ عام انتخابات میں حصہ لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی نے صرف ورکر خواتین کہ ترجیح دی اور تما م نشستوں پرورکر خواتین ہی آئیں۔ 
پاکستان پیپلز پارٹی کی سنیئر کارکن او رساﺅ تھ پنجاب خواتین ونگ کی سابق صدر تسنیم فضلی نے خواتین کے سیاست میں کردار پربات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور پارٹی کی جانب سے خواتین ونگ کے کلیدی عہدوں پر کام کرتی رہی ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے کسی بھی خاتون کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فریال تالپور جب ویمن ونگ کی مرکزی صدر تھیں تو انہوں نے ہی ساوتھ پنجاب کی خواتین کے لئے آواز اٹھائی تھی اور یہ ایک بہت بڑی بات ہے کہ پورے پنجاب میں صرف رحیم یار خان ہی واحدضلع ہے جہاں سے پارٹی جیتتی رہی ہے۔ ساوتھ پنجاب کی خواتین کی نمائندگی کے لئے جب آواز اٹھائی گئی تو رحیم یار خان کی خواتین کے بھی نام سامنے آنے شروع ہوئے تھے اور سن 2013 ءمیں انہیںمخصوص نشست کے لئے پارٹی نے ٹکٹ جاری کیا تھا تاہم جب وہ لاہور ٹکٹ لینے کے لئے گئیں تو وہاں لاہور کی سینئر پارٹی قیادت نے اس بات کا بہت برا منایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپر پنجاب والوں نے ہمیشہ سے خواتین کے ٹکٹوں کو اپنا حق ہی سمجھا ہے جب کہ یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں اس بات کو ترجیح دی گئی تھی کہ ساﺅتھ پنجاب کے اچھے گھرانوں کی خواتین کو سامنے آکر سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آبائی سیاست کے حوالے سے ان کا ایک الگ نظریہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی میرٹ پر آ رہا ہے اور عام عوام کے لئے کام کر رہا ہے توچاہے وہ کوئی بھی ہو اسے آگے آنا چاہئے۔انکا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ایک بڑے گھرانے کا ہی امیدوار کامیاب ہو ایک عام گھرانے کا امیدوار بھی کامیاب ہو سکتا ہے اگر اس میں لیڈر شپ کی صلاحیتیں ہوںاور اس سلسلہ میں پارٹی قیادت کو چاہیے کہ
 میرٹ پر کام کرے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی جنرل نشستوں پر ضلع کی خواتین کو ٹکٹ دے سکتی ہے اور خواتین کو بھی عام انتخابات میں حصہ لینا چاہئے۔ نتاشہ دولتانہ کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان میں بھی ایسی باصلاحیت خواتین موجود ہیں جو الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں۔ 
رحیم یار خان کی خواتین سیاست میں اپنا بھر پور کر دار ادا کرتی رہی ہیں۔ اگر بڑی پارٹیاں ان خواتین کی حوصلہ افزائی کریں تو وہ عام انتخابات میں بھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے خواتین میں صلاحیتیں ہیںلیکن معاشی اور سماجی مسائل ان کو آگے آنے سے روکتے ہیں۔

The post رحیم یار خان کی سیاست میں خواتین کا کردار appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan https://ift.tt/2rsfuAR
Share:

Monday, 3 December 2018

ضلع لیہ موجودہ دور حکومت میں بھی نظر انداز

ضلع لیہ موجودہ دور حکومت میں بھی نظر انداز سابقہ دور حکومت کے جاری ترقیاتی منصوبہ جات  کے لیے معمولی فنڈز جاری، سڑکوں کی تعمیر کا کوئی نیا منصوبہ منظور نہ ہوسکا جبکہ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے گزشتہ 8 سال کے دوران لیہ میں 16978 حادثات میں 350 افراد جانبحق، 1000 سے زائد افراد اپاہج اور 13425 مریضوں کو مختلف ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا
پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمپین کے دوران کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر عوام سے ووٹ مانگے اور پاکستان کے ہر شہری نے یہ سوچ کر ووٹ دیا کہ 70 سال میں پرانے سیاستدانوں نے قسمت آزمائی اب کی باری پی ٹی آئی یوں اقتدار کی بال پاکستان تحریک انصاف کے کورٹ میں جاگری لیکن اقتدار میں آنے کے بعد تمام وعدے وعدے ہی رہے آج بھی پاکستان بھر کے تمام اکاونٹس آفسز میں میٹھائی کے نام پر ہر نئے آنے والے گونمنٹ ملازمین سے ہزاروں روپےمیٹھائی طلب کی جاتی ہے نہ دینے والا مہینوں خوار ہوتا ہے۔ بسوں میں من مانے کرائے اور پیٹرول پمپس پر اپنی مرضی کے پیمانے بھی تو کرپشن کے ذمرے میں آتا ہے گورنمنٹ ہسپتالوں میں آپریشن یا ڈلیوری کے بعد میٹھائی کے نام پر ہزاروں روپے لینا حق سمجھا جاتا ہے ہر نئی خریدی جانے والی جائیداد پر ہزاروں روپے میٹھائی کے نام پر پٹواری کو دینا بھی تو کرپشن ہے ہر گورنمنٹ آفس میں بڑا آفیسر جہاں لاکھوں کماتا ہے وہیں چھوٹے ملازمین میٹھائی اور مبارکباد کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے گھر لے جاتے ہیں اگر یہ کرپشن نہیں تو ہم معذرت چاہتے ہیں 
پسماندگی دور کرنے کے نام پر جن علاقوں سے ووٹ لیے گئے اور پاکستان تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا وہاں ایک اہم نام پسماندہ ضلع لیہ کا بھی ہے جی ہاں وہی لیہ جس کا بیشتر حصہ صحراء پر مشتمل ہے جہاں سہولیات کی کمی کے پیش نظر کوئی بھی ایک ایسا تعلیمی ادارہ موجود نہیں جس میں آفیسرز تیار کیے جاتے ہوں لیہ سے تعلق رکھنے والے تمام آفیسرز لاہور، ملتان، کراچی یا اسلام آباد کی بڑی یونیورسٹیز اور اکیڈمیز سے تعلیم یافتہ ہیں جس پر یقینا اخراجات کئی گناہ زیادہ آتے ہیں اور غریب والدین اپنے بچوں کو افسر دیکھنے کا خواب لیے ہی راہی عدم ہوجاتے ہیں وہی لیہ جہاں آج بھی بچے ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتےہیں جہاں انڈسٹری نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری زیادہ ہے وہ علاقہ جس کے کھیل کے میدان سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل لیول کا کھلاڑی پیدا کرنے سے قاصر ہیں وہ لیہ جسے ہر سال دریائے سندھ نشانے پر رکھے ہوئے ہے لیکن آج تک مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکے وہ لیہ جہاں اچھی اور اونچی آواز میں تقریر کرنے والا شیر اسمبلی تو رہتا ہے لیکن اسے فنڈز کبھی نہیں ملے پسماندہ علاقوں کے ہسپتالوں، سکولوں سڑکوں، اور منظور شدہ میگا پراجیکٹس کے فنڈز روکنا یا چند لاکھ روپے جاری کرنا اگر کفایت شعاری اور ترقی ہے تو ہم معذرت چاہتے ہیں
حکومت پنجاب کے سالانہ میزانیہ 2018-19 کے لیے بجٹ بک کے مطابق ضلع لیہ کے منظور شدہ منصوبہ جات  جن میں گورنمنٹ ویمن کالج راجن شاہ پر لاگت کاتخمینہ 128.430 ملین روپے لگایا ہے 5 ملین روپے منظور کیے گئے جبکہ منصوبہ کے لیے رقم کا اجراء صفر ہے، 200 بیڈز پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی تعمیر کا تخمینہ1ہزار ملین روپے لگایا گیا ہے 14 ملین روپے اس میزانیہ میں جاری ہونے تھے جبکہ گورنمنٹ پنجاب کی جانب سے اس پروجیکٹ کے لیے بھی فنڈز کا اجراء زیرو ہے ڈیرہ ڈویژن کے اضلاع میں ورکنگ ویمن ہاسٹلز کی تعمیر کی کاسٹ 150 ملین روپے مقرر کی گئی ہے کنسٹرکشن ورکے کے آغاز کے لیے منظور کی گئی رقم 10 ملین روپے ہے جبکہ اس پروجیکٹ کے لیے بھی حکومت پنجاب نے ایک دھیلا جاری نہیں کیا، حکومت پنجاب کے لیہ میں چوتھے منظور کیے گئے بڑے منصوبے میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ شامل ہے جس کی تعمیر کے اخراجات 14.912 ملین روپے مقرر کی گئی ہے اس منصوبے کے لیے10 ملین روپے جاری ہونے تھے لیکن فنڈز ندارد ہیں یوں حکومت پنجاب کی جانب سے لیہ کے منظور شدہ 4 نئے منصوبہ جات پر 1293 ملین روپے اخراجات آئیں گے 39 ملین روپے کی گرانٹ منظور کی گئی اور ایک روپیہ بھی جاری نہ کیا گیا۔ ضلع لیہ کے چاروں ترقیاتی منصوبہ جات میں سے بہادر سب کیمپس بہاءالدین زکریا یونیورسٹی  کے زیر تعمیر توسیعی منصوبہ کی تکمیل کے لیے 343.613 ملین روپے درکار ہیں 104.547 ملین روپے کی گرانٹ منظور کرنے کے بعد صرف 17.425 ملین روپے جاری کیے گئے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چوک اعظم میں گائنی وارڈ، میڈیکل سٹور اور مین بلڈنگ کے لیے 10 ملین روپے کی گرانٹ درکار تھی جس کے لیے 10 ملین روپے منظور کیے گئے جبکہ 4 لاکھ 26 ہزار روپے جاری ہوسکے۔ اسٹیبلشمنٹ آف بہادر لائبریری ڈسٹرکٹ کمپلیکس لیہ کے لیے 130 ملین روپے کی ڈیمانڈ تھی 10 ملین روپے منظوری کے بعد جاری ہوئے جو بقایاجات کی ادائیگی میں صرف ہوگئے۔ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی بلڈنگ کی تعمیر کے لیے 10.654 ملین روپےدرکار ہیں جس میں سے 5.654 ملین روپے منظور ہوئے اور صرف 9 لاکھ 43 ہزار روپے کی گرانٹ جاری ہو سکی جو بقایاجات میں پورے ہوگئے۔ یوں ضلع لیہ کے گزشتہ دور میں شروع کیے گئے بلڈنگ ورکس کے لیے مختلف منصوبہ جات کی تکمیل اور انہیں فعال کرنے کے لیے 494.267 ملین روپے درکار ہیں اور محکمہ کے پاس موجود ڈویلپمنٹ گرانٹ برائے جاری ترقیاتی منصوبہ جات کا فقط 4 لاکھ 26 ہزار روپے ہے 
خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے حادثات اور اموات کے برعکس رواں مالی سال میں لیہ میں سڑکوں کی تعمیر کا کوئی منصوبہ منظور نہ ہوسکاسابق دور حکومت کے شروع پروجیکٹس میں سے لیہ تا چوک اعظم دورویہ سٹرک 26 کلو میٹر پر لاگت کا تخمینہ 3092.902 ملین روپے لگایا گیا ہے جس میں سے 332.577 ملین روپے خرچ ہوچکے ہیں 60 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں چکنمبر 160A تا ایم ایم روڑ تک سڑک کی لمبائی 26 کلومیٹر ہے جس کا تخمینہ لاگت265.410 ملین روپے ہے اور جون 2018 تک 142.757 ملین روپے خرچ بھی کیے چا چکے ہیں بقیہ گرانٹ 2019-21 تک 40،40 ملین روپے 3 اقساط جاری کی جائیں گے۔ تعمیر سڑک ہیرا اڈا تا گھلو موڑ براستہ قصبہ لدھانہ 37 کلو میٹر پر تخمینہ لاگت 260.576 جبکہ 209.969 ملین روپے خرچ ہوئے بقیہ فنڈز 30.202 ملین روپے 2 اقساط میں جاری ہوں گے۔ توسیع و امپورمنٹ کاظمی چوک تا قاضی آبادتخمینہ لاگت 788.25 ملین روپے ہے 35 ملین خرچ ہو چکے 2019،2021،2022 میں بالترتیب 16.275 ملین، 14 ملین اور 13.552 ملین روپے گرانٹ جاری ہوگی۔ تعمیرپختہ سڑک دربار میاں رانجھا تاپیر جگی 20.89 کلومیٹر پر لاگت کا تخمینہ 98.150 ملین روپے ہے جبکہ 77.344 خرچ ہوچکے ہیں بقایا گرانٹ دو فنانشل ائیرز میں جاری ہوگی۔ تعمیر سڑک دین پور تا بستی واڑھ کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ 12.782 ہے جس پر 10.199 ملین روپے خرچ آچکے ہیں حکومت پنجاب نے بقایا 2.583 ملین روپے کی گرانٹ جاری کر دی ہے اور یہ سڑک اسی مالی سال کے دوران مکمل ہوجائے گی
 جبکہ ضلع لیہ کی سڑکوں پر گزشتہ 8 سالوں میں 16 ہزار 978 سے زائد حادثات رونما ہوئے 350 سے زائد شہری حادثات کے نتیجہ میں اپنے پیاروں کو آہوں اور سسکیوں میں روتا چھوڑ کر راہی عدم ہوگئے 1 ہزار سے زائد لوگ زندگی بھر یا طویل عرصہ کے لیے  معذور ہوگئے 13ہزار 425 زخمیوں کو لیہ کے ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مختلف ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا
سابق ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف چوہدری یاسر عرفات نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی کے پاس آمدن سے زائد اخراجات کی فہرست ہے جبکہ سابق پنجاب حکومت نے اپنے آخری سال میں یکمشت اتنے منصوبہ جات کا افتتاح کیا کہ اگر وہ جیت بھی جاتے تو ان کے پاس ان منصوبوں کو جاری رکھنے کے لیے فنڈز نہ ہوتے اس لیے قوم انتظار کرے اور آئندہ اچھے وقت کی امید پر ان نامسائد حالات میں حکومت کا ساتھ دے
مسلم لیگ ن کے رہنماء میاں یاسین آزاد نے کہا کہ ضلع لیہ کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے جن وعدوں پر پاکستان تحریک انصاف نے ووٹ لیے ان پر عمل ہونا تودرکنار پرانے منصوبہ جات کے لیے فنڈز نہ دینا ضلع لیہ کو یکسر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جاری منصوبہ جات کے لیے فنڈز نہ دینے سے لاگت بڑھے گی اور ترقی کا عمل 20 سے 30 سال پیچھے چلا جائے گا اور اسی طرح پسماندہ لیہ کے رہائشی دوسرے شہروں کے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں ریفر ہوتے رہیں گے اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا

The post ضلع لیہ موجودہ دور حکومت میں بھی نظر انداز appeared first on News Lens Pakistan.



from Urdu Stories – News Lens Pakistan https://ift.tt/2BLBhts
Share: